اوّلیں چاند نے کیا بات سُجھائ مجھ کو
یاد آئ تری انگشتِ حنائ مجھ کو
سرِ ایوانِ طرب نغمہ سرا تھا کوئ
رات بھر اس نے تری یاد دلائ مجھ کو
دیکھتے دیکھتے تاروں کا سفر ختم ہوا
سو گیا چاند مگر نیند نہ آئ مجھ کو
انہی آنکھوں نے دکھاۓ کئ بھر پور جمال
انھیں آنکھوں نے شبِ ہجر دکھائ مجھ کو
ساۓ کی طرح مرے ساتھ رہے رنج و الم
گردشِ وقت کہیں راس نہ آئ مجھ کو
دھوپ اُدھر ڈھلتی تھی۔ دل ڈوب اِدھر جاتا تھا
آج تک یاد ہے وہ شامِ جدائ مجھ کو
شہر لاہور تری رونقیں دائم آباد
تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائ مجھ کو