مشکل یہ آ پڑی تھی ہمارے نباہ میں
دنیا فریق بن گئی چاہت کی راہ میں
ایسا تھا دل کا حال ترے بعد جس طرح
بجھتا ہوا چراغ کسی خانقاہ میں
اک ایسی کشمکش میں گرفتار یہ دل
راحت ثواب میں تھی نہ لذت گناہ میں
کتنا میں پھوٹ پھوٹ کے رویا تھا اس گھڑی
اس نے لیا تھا جب مجھے اپنی پناہ میں
ہاتھوں میں پھول، آنکھ میں آنسو لئے ہوئے
کہتے ہیں وہ بھی آئی تھی میرے بیاہ میں
ہاں تیرا اعتبار ملا، خستہ و خراب
کل شام اک اُجاڑ سے جنگل کی راہ میں
***