وہ کچھ اس طرح بھی تقدیر بنا دیتا ہے
درد کی روح کو جاگیر بنا دیتا ہے

اک مسیحائی اتر آتی ہے شعروں میں میرے
کوئی الفاظ کو تاثیر بنا دیتا ہے

نقش کرتا ہے اجاگر میری آوازوں کے
بات کرتا ہوں تو تصویر بنا دیتا ہے

آنکھ معصوم ہے لیکن کوئی کرنی والا
ہدف دل کے لیے تیر بنا دیتا ہے

گھیر لیتا ہے نشانات قدم بھی فرحت
عشق کو حلقہ زنجیر بنا دیتا ہے
***
ِ