موت کا اعتبار کر لیتے
دو گھڑی انتظار کر لیتے

درد منہ پھیر کر نہیں جاتا
درد ہی اختیار کر لیتے

لوٹ کر پھر یہی ہوا ہوتا
تم کسی سے بھی پیار کر لیتے

اے میرے دل کبھی کبھی کوئی
شام ہی خوشگوار کر لیتے

جھوٹ کی نوکری سے بہتر تھا
خود کو بے روزگار کر لیتے
***