لندن ٹاور _ برطانوی تاریخ کا گہوارہ
23051 11501664 - لندن ٹاور _ برطانوی تاریخ کا گہوارہ
شاہدہ لطیف
جب فاتح ولیم نے 1066ء میں انگلستان پر حملہ کیا تو اسے وہاں کی آبادی کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگ اس کے تسلط کو قبول کرنے پر آمادہ نہ تھے ۔ مفتوحہ آبادی پر کنٹرول حاصل کرنے اورنظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لئے اس نے مضبوط مراکز قائم کئے جن میں سب سے اہم مرکز ایک قلعہ تھا جسے ولیم نے تھیمز کے کنارے تعمیر کروایا تھا۔ یہ قلعہ صدیوں کی مسافت طے کرتے ہوئے ’’لندن ٹاور‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ قلعہ برطانوی تاریخ کے اہم واقعات کا شاہد ہے۔ ’’ لندن ٹاور‘‘ کے نام سے مشہور ہونے کے باوجود حقیقت میں یہ مینار ہر گز نہیں ہے بلکہ یہ مضبوط دیواروں کا ایک سلسلہ ہے جس کے اندر مختلف ادوار میں خندق اور مینارکے علاوہ دیگر تعمیرات بھی کی گئیں۔ جب تھیمز لندن میں شاہراہ عام تھی، اس وقت اس میں داخلہ ’’غداروں کے دروازے‘‘ سے ہی ممکن تھا۔ اس کی دیواریں 18 ایکڑ رقبے کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔وسطی یا سفید مینار بشپ آف راچسٹرگندلف نے محافظ فوج رکھنے کے لئے1078ء میں بنائے تھے۔اسے اسلحہ خانہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا،اور اب بھی اس کا استعمال یہی ہے۔اس میں سابق فوجیوں کے ملبوسات بھی محفوظ ہیں۔ وہ حفاظتی پوشش، وہ زرہ بھی موجود ہیں جو انگریز بادشاہ زیب تن کرتے تھے۔دیواروں کے اندر ایک شاندار گرجا گھر بھی واقع ہے۔ جو سینٹ جان کا گرجا کہلاتا ہے یہ وہ گرجا ہے جہاں پر قیدیوں اور امیروں نے اپنی آخری عبادت سر انجام دی تھی یا اس مقام پر دفن کئے گئے تھے۔ 13ویں اور 14 ویں صدی کا دورانیہ قومی ابتری اور انتشار کا دورانیہ تھا۔ اس دور میں پُر قوت اور طاقت کے حامل حکومتی خاندان ایک دوسرے کی اتھارٹی کو چیلنج کرتے تھے اور بادشاہ پر اثر انداز ہونے کی جدوجہد میں مصروف رہتے تھے۔ وہ بادشاہ کو متاثر کرنے میں پیش پیش رہتے تھے۔ اس دوران حفاظتی قلعوں کی عمارات کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ لندن کے مینار میں کئی دوسرے میناروں کا اضافہ کیا گیا تھاجن میں وہ خونی مینار بھی شامل تھا جہاں این بولین ، ہینری VIII کی دوسری بیوی سزائے موت پانے سے بیشتر1536ء میں قید رہی تھی۔ کئی ایک صدیوں کے دوران اس مینار میں کئی ایک اہم شخصیات قید رہی تھیں۔ مثلاً کران مر…سرواٹر ریلے اور آرک بشپ لاؤڈ وغیرہ۔ اندرونی دیوار کے دیگر مینار بشمول ویک فیلڈ ٹاور ، بُو چانپ ٹاور (تھامس ڈی بُو چانپ کے نام پر اس کا نام رکھا گیا تھا جسے رچرڈ II نے وہاں پر قید رکھا تھا)، اور بل ٹاور یہ تمام مینار قید خانوں کے نظریے کے تحت تعمیر کئے گئے تھے۔ بل ٹاور میں کافی مشہور شخصیات قید رہی تھیں۔جیسا کہ آرک بشپ فشر، سرتھامس مور، نوجوان شہزادی الزبتھ اور چارلس II کا غیر قانونی بیٹا ڈیوک آف مون ماؤتھ وغیرہ۔ 15 ویں صدی کے دوران مینار نے پارک اور لان کیسٹر کے درمیان رقابت بھی دیکھی۔ ہینری VI، جس کا دور حکومت سنہری وعدوں سے شر وع ہوا، 1471ء میں وہاں پر قتل ہوا اور رچرڈ III کے دور کے دوران یہی کچھ شہزادی ایڈورڈ یارک کے رچرڈ کیساتھ ہوا۔ رچرڈ کا بھائی ڈیوک آف کلارینس شاہی سازش کا شکار ہوا تھا۔ ٹیوڈور کے دور میں لندن ٹاور نے کئی اورواقعات دیکھے۔ کیتھرائن ہوورڈ اور این بولین وہاں پر قید تھے،انہیں وہیں سزائے موت ملی ۔یہی کچھ لیڈی جین گرے اور رابرٹ ارل آف ایسکس کے ساتھ پیش آیا۔حتیٰ کہ جدید دور میں بھی لندن ٹاور میں اہم قیدی رکھے گئے۔ ان میں سے ایک رڈولف ہس بھی تھا جو 1941ء میں امن منصوبے کے ساتھ غیر متوقع طور پر برطانیہ پہنچا تھا۔اپنی تمام تر تاریخ کے دوران لندن کا مینار ایک قید خانے اور قلعے سے بڑھ کر بھی رہا ہے۔ اس کی چار دیواری کے اندر بہت سی اہم قومی تقریبات بھی منعقد ہوتی رہی ہیں۔ کئی مرتبہ یہ شاہی ٹکسال ، مشاہدہ گاہ ، شاہی چڑیا گھر اور عوامی ریکارڈ کا مرکز بھی بنا۔ سب سے بڑھ کریہ شای محل بھی بنا۔ آج بھی اس میں نوادرات اور قومی اسلحے کا ذخیرہ موجود ہے۔ ٭…٭…٭