سینٹ آگسٹائن
23049 68987511 - سینٹ آگسٹائن
شاہد مختار
’’اللہ تعالیٰ کے قوانین کی اطاعت نہ کرنے والی قومیں اور شخصیات مٹ جاتی ہے‘‘۔ یہ قول سینٹ آگسٹائن کا ہے۔وہ انجیل کی تعلیمات پر مبنی ایسا سیاسی نظام پیش کرنے والا پہلا مفکر تھا جس کا بنیادی مقصد کلیسا اور مملکت کے اقتدار میں توازن پیدا کرنا تھا۔وہ کلیسا اور مملکت کے حقوق کی بجاآوری چاہتا تھا۔اس کا شمار لاطینی کلیسا کے ابتدائی دور کے اہم مذہبی پیشواؤں میں ہوتا ہے۔ 354ء میں پیدا ہونے آگسٹائن کا باپ بت پرسٹ اور ماں عیسائی تھی۔ ابتدا میں وہ بھی بت پرست تھا۔ سینٹ امبروس کے کہنے پر عیسائیت قبول کی اور شمالی افریقہ میں بشپ آف ہپو کے عہدہ پر فائز ہوا۔ بت پرستی کے خلاف اور عیسائیت کے فروغ کے لئے اس کی کتاب ’’شہر الوہی ‘‘ (City of God )نے زیادہ شہرت حاصل کی۔سیاسیات پر اس کی تصنیف ’’سوی ٹاٹ ڈی ای‘‘ ہے۔ یہ کتاب 77 جلدوں پر مشتمل ہے۔ یہ 413ء سے 426ء کے دوران 13 سال میں لکھی گئی۔ جس میں زوال پذیر شہنشاہیت کی جگہ بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود پر مبنی مفید اور پائیدار نظام حکومت کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ وہ اس کتاب میں انتہائی خوشگوار سیاسی زندگی کو ’’مجبوری‘‘ قرار دیتے ہوئے فطری زندگی کی مسخ شدہ شکل بتاتا ہے۔اس نے اپنے فلسفہ تاریخ میں روم کی تباہی کو منشائے الٰہی قرار دیا تھا۔ روم کی تباہی سے جہاں برائی اپنے انجام کو پہنچی وہاں شہر الوہی (City of God) کے لئے راہ ہموار ہوئی ۔’’شیطانی طاقتیں اور نیکی کی قوتیں ہمیشہ نبرد آزما رہتی ہیں۔ برائی ایک منفی عنصر ہے اور اچھائی سے الگ ہو کر اس کا وجود باقی نہیں رہتا۔ شیطانی طاقتوں کو قوت اور اقتدار مل جاتا ہے لیکن مستحکم اور پائیدار نہیں ہوتا۔ ان ارضی شیطانی بادشاہوں کا خاتمہ اور ان کی جگہ سلطنت خداوندی قائم ہونی چاہیے‘‘۔ اس نے افلاطون اور سسرو کے تصورات ریاست کو مذہبی رنگ میں پیش کرتے ہوئے شہر الوہی کو عالمگیر اور اس کی بنیاد کو محبت قرار دیا۔ اس نے اس ارضی ریاست کی بنیاد ’’خود سے محبت‘‘ کے فلسفہ پر رکھی۔ اس کے خیال میں کلیسا ارضی جنت ہے اور ریاست کا انحصار کلیسا پر ہے۔ خدا کا فضل و کرم انسان کی تقسیم کرتا ہے، انسان کو گناہ سے بچنے اور قرب الٰہی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور سب انسان اسی فضل و کرم کے طفیل شہر الوہی کے رکن ہوتے ہیں جن کے لیے کسی مخصوص ریاست یا طبقہ یا نسل سے وابستگی ضروری نہیں۔ یہ رکن خدائی عبادت اور اس سے محبت کرتے ہیں اور اسی جذبہ کے تحت معاشرہ کی تشکیل کرتے ہیں۔آگسٹائن کے نزدیک کنبہ (معاشرہ) ریاست کا ایک حصہ ہے اور اس کے فرائض ریاست کے فرائض ہیں۔ وہ ریاست کو حتمی معاشرہ قرار نہیں دیتا بلکہ اس عالمگیر معاشرہ کا ذکر کرتا ہے جس میں عالمگیر انصاف اور ضابطے ہوتے ہیں۔ روحانیت اور مادیت دونوں انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسیحیت دنیا کی نعمتوں اور آسائشوں کو قابل نفرت سمجھتی ہے ۔ اس کے نزدیک مملکت کا قیام انسان کی سرتابی کے باعث عمل میں آیا اور یہ عذاب الٰہی ہے جسے انسان بنیادی زندگی کی صورت میں برداشت کر رہا ہے۔ ٭…٭…٭