انفرادیت پرست
ایک انساں کی حقیقت کیا ہے

زندگی سے اسے نسبت کیا ہے

آندھی اٹھے تو اڑا لے جائے

موج بِپھرے تو بہا لے جاۓ

ایک انساں کی حقیقت کیا ہے

ڈگمگاۓ تو سہارا نہ ملے

سامنے ہو، پہ کنارا نہ ملے

ایک انساں کی حقیقت کیا ہے

کُند تلوار قلم کر ڈالے

سرد شعلہ ہی بھسَم کر ڈالے

اندگی سے اسے نسبت کیا ہے

ایک انساں کی حقیقت کیا ہے