اور نہیں تو اس کو بھی بدنام کروں
لوگو آخر میں بھی کچھ تو کام کروں

توڑ دوں یا اس پاگل دل کو رام کروں
کچھ نہ کچھ اس قصے کا انجام کروں

تم بولو میں گیت لکھوں آوازوں پر
تم پلکیں جھپکو تا کہ میں شام کروں

وہ کیوں مجھ کو لکھ دے اپنی آزادی
میں کیوں اپنا جیون اس کے نام کروں

فن کی خاطر یہ تو کرنا پڑتا ہے
اپنے روز و شب وقف آلام کروں
***