مزاج!مختلف ہیں چارہ گر،جوہیں میسر
مگر تنہائی ہر لمحہ رفاقت چاہتی ہے
یہ سناٹا تو جاں لیوا ہ اب دیوارو در کا
کسی سے بات کرنے کو طبیعت چاہتی ہے
***