چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ
لوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھ
فیصلہ یہ تو بہرحال تجھے کرنا ہے!
ذہن کے ساتھ سلگنا ہے کہ جذبات کے ساتھ
گفتگو دیر سے جاری ہے نتیجے کے بغیر
اک نئی بات نکل آتی ہے ہر بات کے ساتھ
اب کے یہ سوچ کے تم زخم جدائی دینا
دل بھی بجھ جائے گا ڈھلتی ہوئی اس رات کے ساتھ
تم وہی ہو کہ جو پہلے تھے مری نظروں میں
کیا اضافہ ہوا ان اطلس و بانات کے ساتھ
اتنا پسپا نہ ہو، دیوار سے لگ جائے گا
اتنے سمجھوتے نہ کر صورت حالات کے ساتھ
بھیجتا رہتا ہے گمنام خطوں میں کچھ پھول
اس قدر کس کو محبت ہے مری ذات کے ساتھ
***