کھل گئے ہیں بہار کے رستے
ایک دل کش دیار کے رستے

ہم بھی پہنچے کسی حقیقت تک
اک مسلسل خمار کے رستے

منزل عشق کی حدوں پر ہیں
دائمی انتظار کے رستے

اس کے ہونے سے یہ سفر بھی ہے
سارے رستے ہیں یار کے رستے

جانے کس شہر کو منیر گئے
اپنی بستی کے پار کے رستے