تپتے صحراؤں پہ گرجا سرِ دریا برسا
تھی طلب کس کو مگر ابر کہاں جا برسا
کتنے طوفانوں کی حامل تھی لہو کی ایک بوند
دل میں اک لہر اٹھی آنکھ سے دریا برسا
کوئی غرقاب کوئی مائ بے آب ہُوا
ابرِ بے فیض جو برسا بھی تو کیسا برسا
چڑھتے دریاؤں میں طوفان اٹھانے والے
چند بوندیں ہی سرِ دامنِ صحرا برسا
طنز ہیں سوختہ جانوں پہ گرجتے بادل
یا تو گھنگھور گھٹائیں نہ اٹھا ، یا برسا
ابر و باراں کے خدا ، جھومتا بادل نہ سہی
آگ ہی اب سرِ گلزارِ تمنّا برسا
اپنی قسمت کہ گھٹاؤں میں بھی جلتے ہیں فرازؔؔ
اور جہاں وہ ہیں وہاں ابر کا سایہ برسا
٭٭٭