مختصر برفانی دور
23056 18404439 - مختصر برفانی دور
رضوان عطا
دنیا زمین پر آنے والے پانچ بڑے برفانی ادوار سے واقف ہے۔ ان ادوار میں کرۂ ارض کا درجہ حرارت کم ہو گیا اور گلیشئرزبڑھ گئے۔ چند صدیاں قبل کرۂ ارض کے مختلف خطوں میں آنے والے کم شدید اور مختصر سرد ادوار ان کے علاوہ ہیں۔ اگرچہ ماہرین کسی تاریخ پر متفق نہیں لیکن عمومی رائے کے مطابق یہ کم و بیش سولہویں سے انیسویں صدی تک جاری رہے۔انہیں اجتماعی طور پر مختصر برفانی دور کہا جاتا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق اس دوران تین بار موسم سرد ہوا۔ پہلے دور کا آغاز 1650ء میں، دوسرے کا 1770ء میں اور تیسرے کا 1850ء میں ہوا۔ سرد دور کے بعد کچھ عرصے کے لیے حدت بڑھ جاتی اور پھر سردعرصہ شروع ہو جاتا۔ مختصر برفانی دور میں یہ صورت حال پورے کرۂ ارض کے بجائے مختلف خطوں میں پیش آئی۔ اس کی وجوہات میں سورج کی حدت اور انسانی آبادی میں عارضی کمی، آتش فشانی، سمندری پانی کے بہاؤ اور زمین کی گردش میں تبدیلی شامل ہیں۔ خیال رہے کہ طاعون اوردوسری بیماریوں ،جنگوں اور قتل عام سے انسانی آبادی میں کمی واقع ہوئی تھی۔ مختصر برفانی دور میں یورپ اور شمالی امریکا میں جاڑے زیادہ سرد ہو گئے۔ سوئٹزرلینڈ میں سترہویں صدی کے وسط میں کئی زرعی علاقے پھیلتے ہوئے گلیشئرز کی نذر ہوئے۔ برطانیہ اور نیدرلینڈز میں کئی نہریں اور دریا سردیوں میں جم جاتے۔ سردی کی شدت سے فصلوں اور مویشیوں کا نقصان ہوا جس کی وجہ سے قحط بھی آئے اور بیماریوں میں بھی اضافہ ہوا۔ یورپی لوگ موسم میں تبدیلی کی توجیح دقیانوسی خیالات کی بنیاد پر بھی کرتے رہے۔اس دوران سماج میں کمزور طبقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مثلاً یورپ میں بہت سی عورتوں کو چڑیلیں یا جادوگرنیاں قرار دے کر سزائیں دینے کا سلسلہ تیز ہوا۔ شمالی امریکا پہنچنے والے یورپی مہم جُوؤںکے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی سردیاں خاصی شدید ہو چکی تھیں۔ 1607ء اور 1608ء میںسخت سردیوں کی وجہ سے یورپی اور مقامی امریکیوں کی خاصی ہلاکتیں ہوئیں۔ خوراک کی کمی سے نپٹنے کے لیے مقامی امریکی قبائل نے ایک اتحاد بھی قائم کیا تھا۔ ایشیا میں بھی درجہ حرارت میں کمی ہوئی لیکن تاحال یہ ثابت نہیں ہوا کہ اس تبدیلی کا رشتہ یورپ یا شمالی امریکا سے تھا یا یہ ان سے الگ تھا۔ مختلف علاقوں میں اس کا اثر مختلف رہا۔ مثلاً چین کے صوبے ژیانگ ژی میں صدیوں سے کاشت ہونے والی سنگترے کی فصل سخت موسم کے سبب ختم ہو گئی ۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے سبب آنے والے قحط کی وجہ سے مِنگ سلطنت ختم ہوئی۔ بعض ماہرین کی رائے میں اسی دوران ہمارے بلوچوں نے موسم کی شدت کے باعث دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ میدانی علاقوں کی طرف ہجرت کی۔ ان کی زیادہ تر آبادی اسی لئے سرائیکی اور سندھی زبانیں بولتی ہے۔ ٭…٭…٭