سانحۂ بوسٹن
23055 66437686 - سانحۂ بوسٹن
محمد اقبال
پانچ مارچ کو امریکا اور سیاہ فاموں کی آزادی کی تحریک میں اہم تاریخ گردانا جاتا ہے اور اس کی وجہ سانحۂ بوسٹن ہے۔ 1768ء کے موسمِ خزاں میں برطانوی سپاہ کو امریکی شہر بوسٹن روانہ کیا گیا تاکہ وہ اپنی نوآبادی میں پیدا ہونے والی بے چینی کو قابو میں لا سکیں۔ ’’سٹیمپ ایکٹ‘‘ اور ’’ٹاؤن شینڈ ایکٹ‘‘ کے اجرا کے بعد مقامی اہلکاروں پر حملے ہونے لگے تھے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے جاری کردہ سٹیمپ ایکٹ میں برطانوی نوآبادیوں پر ٹیکس لگائے گئے تھے اور ساتھ ہی شرط عائد کی گئی تھی کہ اہم اشاعتیں لندن میں تیار کردہ مہر شدہ کاغذ پرہوں۔ ان میں قانونی دستاویزات، جرائد، پلے کارڈ، نیوزپیپراور دیگر اقسام کے کاغذ شامل تھے۔ ٹیکسوں کا مقصد امریکا میں مقیم برطانوی فوج کے اخراجات اکٹھے کرنا تھا۔ برطانوی ٹیکس امریکی آبادکاروں میں بہت غیر مقبول تھے۔ بوسٹن میں برطانوی سپاہ ان اہلکاروں کا تحفظ کر رہی تھیں جو برطانوی پارلیمنٹ کے غیر مقبول فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنا رہے تھے۔ تناؤ کی اس کیفیت میں ایک مجمع نے پانچ مارچ 1770ء کو سپاہیوں کے ایک گروہ کو دھمکیاں دیں، برا بھلا کہا اور ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مجمع پر گولیاں برسا دیں جس کے نتیجے میں فوری طور پر تین افراد ہلاک ہو گئے۔ دو افراد بعدازاں زخموں کی تاب نہ لا کر مرے۔ پہلا ہلاک ہونے والا فرد ساحل پر سامان اٹھانے والا کرسپس اٹوکس نامی مزدور تھا۔ اسے ’’امریکی انقلاب‘‘ میں قتل ہونے والا پہلا فرد قرار دیا جاتا ہے۔ وہ افریقی و مقامی امریکی نسل سے تعلق رکھتا تھا۔ اگرچہ تاریخ دان اس امر پر متفق نہیں کہ وہ آزاد تھا یا غلام لیکن انیسویں صدی کے وسط میں اٹوکس غلامی سے نجات کی تحریک کی ایک علامت بن گیا کیونکہ اس نے امریکا کی آزادی کے لیے جان کی قربانی دی تھی۔ وہ میساچوسٹس کے شہر فرامنگھم میں پیدا ہوا۔ شہر کی دستاویزات میں اس کا ذکر بطور غلام ہے۔ 1750ء کے ایک اشتہار میں اس کا ذکر بھگوڑے غلام کے طور پر ملتا ہے۔پھر وہ ملاح بنا اور بندرگاہ پر سامان اٹھانے کا کام کرتا رہا۔ اس واقعے نے برطانویوں کے خلاف سرکشی اور امریکا کی آزادی کے مطالبے کو جلا بخشی۔ بوسٹن کے واقعے نے بادشاہ جارج سوم اور برطانوی پارلیمنٹ کے خلاف جذبات کو بڑھاوا دیا اور امریکی آزادی کی بنیادیں رکھ دیں۔ ٭…٭…٭