سب راستے دشمن ہوئے اشجار مخالف
تو میرا ہوا ہے تو ہوئے یار مخالف
بنیاد رکھوں کوئی تو بنیاد ہے دشمن
دیوار اٹھاتا ہوں تو دیوار مخالف
ہاتھوں میں اٹھا لیتے ہیں اوزان کے پتھر
سنتے ہی نہیں ہیں میرے اشعار مخالف
میں عشق کو ہمدرد سمجھ بیٹھا تھا یارو
لگتے نہ تھے اس بحر کے آثار مخالف
دوں جان تو قربانی سمجھتا نہیں کوئی
گر تھوڑا سنبھلتا ہوں تو گھر بار مخالف
اس شہر کو سچ سننے کی عادت ہی نہیں ہے
لگتے ہیں سبھی کو میرے افکار مخالف
سنتے تھے کہ بس ہوتے ہیں اغیار مخالف
میرے تو نکل آئے ہیں سب یار مخالف
جو بات بھی ہو دل میں چھپاتا نہیں فرحتؔ
ہر روز بنا لیتا ہوں دو چار مخالف
***