ہمارا حال کچھ یوں ہے ترے دربان کے آگے
کہ یخ بستہ مسافر جیسے آتشدان کے آگے
ہمارے پیر لیکن اس زمیں نے تھام رکھے ہیں
بہت سے شہر ہوں گے اور بھی،ملتان کے آگے
اک آندھی گردش حالات کی حاوی ہوئی مجھ پر
کہاں تک جلتا رہتا وقت کے طوفان کے آگے
طبیعت کی بحالی سے بڑی راحت نہیں کوئی
ہر اک شے ہیچ ہے اس دل کے اطمینان کے آگے
جواب اس کو مری باتوں کا جب دینا نہیں ہوتا
وہ فوراً ہاتھ رکھ لیتا ہے اپنے کان کے آگے
ہماری نسبتیں قائم ہیں ساجد اس گھرانے سے
جو سجدہ نہیں کرتا کسی سلطان کے آگے
***