خیال یکتا میں خواب اتنے
سوال تنہا جواب اتنے

کبھی نہ خوبی کا دھیان آیا
ہوئے جہاں میں خراب اتنے

حساب دینا پڑا ہمیں بھی
کہ ہم جو تھے بے حساب اتنے

بس اک نظر میں ہزار باتیں
پھر اس سے آگے حجاب اتنے

مہک اٹھے رنگ سرخ جیسے
کھلے چمن میں گلاب اتنے

منیرؔ آئے کہاں سے دل میں
نئے نئے اضطراب اتنے