دولت اور محبت

ہے زباں بھی دل بھی آنکھیں بھی تعقل بھی مگر
مصلحت بینی انہیں اذنِ عمل دیتی نہیں
اہلِ دولت سے وفا کی آرزو ہے اک گناہ
ان زمینوں میں محبت پھول پھل دیتی نہیں