اداکار رحمان
23066 47255294 - اداکار رحمان
عبدالحفیظ ظفر
پاکستان اور بھارت میں رحمان نامی دو اداکاروں نے بہت شہرت حاصل کی۔ یہ دونوں اداکار اب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں لیکن اُن کا نام بھی زندہ ہے اور کام بھی۔ بھارتی اداکار رحمان پاکستان کے معروف اداکار فیصل رحمان کے چچا تھے۔ وہ ہیرو بھی آتے رہے اور کیریکٹر ایکٹر بھی۔ پاکستانی اداکار رحمان کو صرف پاکستانی اداکار نہیںکہنا چاہیے بلکہ وہ پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں ملکوں کے اداکار تھے۔ اس مضمون میں ہم پاکستان اور بنگلہ دیش کے اس اداکار کے بارے میں اپنے قارئین کو بہت کچھ بتائیں گے۔پاکستانی اداکار رحمان کا پورا نام عبدالرحمان تھا۔ وہ 27فروری 1937 کو مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) پنچ گڑھ کے گاؤں روزیا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بنگالی اور اردو دونوں زبانوں کی فلموں میں کام کیا۔ انہوں نے سب سے پہلے ہدایت کار احتشام کی بنگالی فلم ’’ایہہ دیش تمارامر‘‘ میں ولن کا کردار ادا کیا۔ یہ فلم 1959 میں نمائش کیلئے پیش ہوئی۔ اس کے بعد وہ کئی بنگالی اور اردو فلموں میں ہیرو کے طور پر جلوہ گر ہوئے۔ اداکارہ شبنم کے ساتھ اُن کی جوڑی بہت پسند کی گئی۔ انہوں نے 1958 سے لے کر 1970 کے آخر تک کراچی، ڈھاکہ اور لاہور کی فلموں میں کام کیا۔ انہوں نے کچھ فلموں کی ہدایت کاری بھی کی۔ رحمان کی سپرہٹ اردو فلموں میں ’’چندا (1962)، تلاش (1963)، بہانہ (1965)، درشن (1967)، دوستی (1971) اور چاہت (1974)‘‘کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ وہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں یکساں طور پر مقبول تھے۔ انہوں نے ایسے دور میں اپنے آپ کو منوایا جب محمد علی، وحید مراد اور ندیم کے نام کا طوطی بول رہا تھا۔ انہوں نے رومانوی اور میوزیکل فلموں میں کام کیا۔ ان پر بڑے شاندار نغمات عکس بند ہوئے۔ بشیر احمد، احمد رشدی اور اخلاق احمد کے شاہکار گیت ان پر عکس بند ہوئے۔ وہ خود بھی موسیقی کے اسرار و رموز سے واقف تھے یہی وجہ ہے کہ ان کی فلموں کے گیت بہت متاثر کن ہوتے تھے۔ ان کی بیشتر فلموں کی موسیقی روبن گھوش کی ہوتی تھی اور روبن گھوش کے عظیم موسیقار ہونے میں کسی کو کوئی شک نہیں۔1974 میں انہوں نے ایک سسپنس فلم میں کام کیا جس کا نام تھا ’’دھماکہ‘‘۔ یہ فلم ابنِ صفی کے ناول سے ماخوذ تھی اور اس فلم میں جاوید شیخ نے بھی کام کیا۔ یہ فلم بُری طرح فلاپ ہوئی اور یہ ثابت ہو گیا کہ رحمان صرف رومانوی اور میوزیکل فلموں کے لیے ہی موزوں ہیں۔ ’’دھماکہ‘‘ رحمان کی ناکام ترین فلم تھی۔ 60کی دہائی میں جب وہ اداکار اور ہدایت کار کی حیثیت سے کامیابیوں کے پھول سمیٹ رہے تھے تو انہیں ایک حادثے سے دوچار ہونا پڑا۔ فلم ’’پریت نہ جانے ریت‘‘ کی شوٹنگ کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے انہیں اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہونا پڑا۔ اس کے بعد انہوں نے مصنوعی ٹانگ لگوائی اور ان کی کامیابیوں کا سفر پھر سے شروع ہو گیا۔ 1971ء میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد رحمان نے پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی۔ اسی طرح شبنم نے بھی پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ رحمان اپنی فلموں میں ایسے ہیرو کا کردار ادا کرتے تھے جو اپنے مخالفین سے مارکھاتا رہتا تھا لیکن آخری فتح رحمان کی ہی ہوتی تھی۔ وہ ایکشن فلموں میں کام کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے بڑے قابل ہدایت کاروں کے ساتھ کام کیا جن میں شریف نیئر (دوستی)، نذر السلام (پیاسا)، احتشام (چندا)، ظہیر رحمان (بہانہ)، مستفیض (تلاش) اختر یوسف (ساون آیا تم نہیں آئے)، اور اقبال اختر (نادان) شامل ہیں۔ رحمان کی اداکاری کا سب سے بڑا وصف فطری پن تھا۔ وہ بڑے دھیمے انداز میں مکالمے بولتے تھے۔ شاید ہی کسی فلم میں انہوں نے اونچی آواز میں کوئی مکالمہ بولا ہو۔ یہ محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ اداکاری کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ گانے بھی بڑی عمدگی سے عکس بند کراتے تھے۔ ان کی فلموں کے جتنے گیت ہٹ ہوئے شاید ہی کسی اور اداکار کے ہوئے ہوں۔ ذیل میں ان یادگار نغمات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو ان پر فلمبند ہوئے۔ -1 یہ موسم یہ مست نظارے (درشن)،-2 دن رات خیالوں میں (درشن)، -3 چل دیے تم جو دل توڑ کر (درشن)، -4 تمہارے لیے اس دل میں (درشن)، -5 اچھا کیا دل نہ دیا (پیاسا)، -6 پیار بھرے دو شرمیلے نین (چاہت)، -7 ایسے وہ شرمائے (دو ساتھی)، -8 دیکھو یہ کون آ گیا (دو ساتھی)۔ 1975 میں ان کی فلم ’’دو ساتھی‘‘ ریلیز ہوئی۔ یہ ایک خوبصورت فلم تھی اور اس کے گیتوں نے ہر طرف دھوم مچا دی تھی لیکن یہ فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی جس کا رحمان کو بہت قلق ہوا۔ اس سے پہلے 1974میں ان کی فلم ’’چاہت‘‘ زبردست کامیابی سے ہمکنار ہو چکی تھی۔ رحمان 90کی دہائی میں بنگلہ دیش چلے گئے جہاں انہوں نے بنگالی فلموں میں کام کرنا شروع کر دیا۔ ان کی دیگر اردو فلموں میں ’’گوری، ایندھن اور کنگن‘‘ شامل ہیں۔20جولائی 2005 کو رحمان کا طویل علالت کے بعد ڈھاکہ میں انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال سے نہ صرف پاکستانی فلمی صنعت کو نقصان پہنچا بلکہ بنگلہ دیشی فلمی صنعت بھی ایک باکمال اداکار سے محروم ہو گئی۔ رحمان نے کبھی معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا اور فحش اور لچر فلموں میں کام نہیں کیا۔ ان کے فن کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ٭…٭…٭