ایک لڑکی

دنیا جب رب رب کرتی ہے
ہم کو گھائل کرتی ہے
جن میں رسوائی نہیں ہوتی
ایسے کام وہ کب کرتی ہے
نام کسی کا لے کر مجھ سے
آٹو گراف طلب کرتی ہے
مطلب کی باتوں کے علاوہ
باتیں ہم سے سب کرتی ہے
جن سے اس کا دل نہیں ملتا
ان کا صرف ادب کرتی ہے
اک لڑکی گل بوٹوں والی
باغ کی سیر بھی اب کرتی ہے
دیکھیں، اپنی نظر عنایت
کس ٹہنی پر کب کرتی ہے