ہے اس گل رنگ کا دیدار ہونا
کہ جیسے خواب سے بیدار ہونا

بتاتی ہے مہک دست حنا کی
کسی در کا پس دیوار ہونا

اسے رکھتا ہے صحراؤں میں حیراں
دل شاعر کا پر اسرار ہونا

کمالِ شوق کا حاصل یہی ہے
ہمارا شہر سے بیزار ہونا

فراق آغاز ہے ان ساعتوں کا
ہے آخر جن کا وصلِ یار ہونا

یہی ہونا تھا آخر دشت غم کو
ہمارے ہاتھ سے گلزار ہونا

محبت کا سبب ہے بے نیازی
کشش اس کی ہے بس دشوار ہونا

منیرؔ اچھا نہیں لگتا یہ تیرا
کسی کے ہجر میں بیمار ہونا