کتے دن اس بت کو اپنا غم سنانے میں لگے
سال کتنے اس دنوں کے آنے جانے میں لگے

راستے ہی راستے تھے آخر منزل تلک
رنج کتنے اک خوشی کا خواب آنے میں لگے

یاد آئی صبح کوئی ابتدائے عمر کی
وہ گلِ تازہ کی صورت مسکرانے میں لگے

ہے بسنت آنے کو اڑتی پھر رہی ہیں باغ میں
تتلیوں کو رنگ کیسے اس زمانے میں لگے

کس محبت سے ہوا تعمیر مدت میں منیرؔ
چند لمحے جو نگر کی خاک اڑانے میں لگے