ایک قطعہ

ہے زباں بھی دل بھی آنکھیں بھی عقل بھی مگر
مصلحت بینی انہیں اذنِ عمل دیتی نہیں
اہلِ دولت سے وفا کی آرزو ہے اک نگاہ
ان زمینوں میں محبت پھول پھل دیتی نہیں