تو کہ انجان ہے اس شہر کے آداب سمجھ
پھول روئے تو اسے خندۂ شاداب سمجھ
کہیں آ جائے میسر تو مقدر تیرا
ورنہ آسودگیِ دہر کو نایاب سمجھ
حسرتِ گریہ میں جو آگ ہے اشکوں میں نہیں
خشک آنکھوں کو مری چشمۂ بے آب سمجھ
موجِ دریا ہی کو آوارۂ صد شوق نہ کہہ
ریگِ ساحل کو بھی لبِ تشنۂ سیلاب سمجھ
یہ بھی وا ہے کسی مانوس کرن کی خاطر
روزنِ در کو بھی اک دیدۂ بے خواب سمجھ
اب کسے ساحلِ امید سے تکتا ہے فرازؔؔ
وہ جو ایک کشتیِ دل تھی اسے غرقاب سمجھ