ان کی خوشی کا خاطر

اگر وہ زہر دیتے ہیں
تو اس میں کیا قباحت ہے
چلو ،ان کی خوشی کے نام پر ہی مرلیا جائے
زباں کو زہر کی نعمت سے بھی
تر کر لیا جائے
کبھی صحرا میں دریا چاہتے ہو
کبھی دریا میں صحرا چاہتے ہو
بہانے ڈھونڈتے ہو مرد ہو کر
تناتے کیوں نہیں ،لیا چاہتے ہو
کس شادی میں دیکھ آئے تھی اس کو
اب اس لڑکی کا رشتہ چاہتے ہو
کبھی آئینے میں خود کو بھی دیکھا؟
جو چہرہ چاند جیسا چاہتے ہو
حصول ماہ گھر بیٹھے ہو ممکن !
سو، اب پانی میں نیلا چاہتے ہو
تمہیں شہرت کی خواہش ہے تو بولو
کہ تم الزام کیسا چاہتے ہو
کسی کو بار جاں بخشو گے اپنا
کہ تم تنہا ہی رہنا چاہتے ہو
ہماری گفتگو بس تھی یہیں تک
کہو کچھ تم بھی کہنا چاہتے ہو
یہ تو ہم کہتے نہیں، سایہ ظلمت کم ہے
روشنی ہے تو سہی جب ضرورت کم ہے
دل کا سودا ہے یہ مٹی کے کھلونے کا نہیں
اور تخفیف نہ کر پہلے ہی قیمت کم ہے
اس نے کھڑکی مرے کمرے کی مقفل کر دی
گویا تنہائی میں جلنے کی اذیت کم ہے
اک بڑی گھر سے تعلق ہے حسیں بھی ہے بہت
پھر بھی لگتا ہے کہ کچھ اس میں نفاست کم ہے
کیا دیا تم نے اسے جس نے نوازا ہے تمہیں
پھر بھی شاکی ہو کہ حاصل تمہیں نعمت کم ہے
کوئی حقدار تو ہو لائق وستار تو ہو
کون کہتا ہے کہ اس شہر میں عزت کم ہے