sonu! Don't cry


آوازوں کی انگلی تھام کے
چلنے والے
پیارے بیٹے
اندھیاروں میں تنہا چلنے کی
تم اچھی عادت ڈالو
کیونکہ آوازیں کرنیں ہیں
اور کرنیں گہنا جاتی ہے
لوگ تو کہتے ہیں کہ گہنا تے ہیں
چاند اور سورج،
لیکن
اپنی عمر کی اس منزل پر
آ کر اب احساس ہوا ہے
روشنیاں کلیاں ہیں
اور یہ کلیاں بھی مرجھا جاتی ہیں
آوازیں بھی کرنیں ہے
گہنا جاتی ہیں
جاؤ اندھیرے کمرے سے
ماچس کی
اک ڈبیا لے آؤ
لیکن اس کمرے میں جا کر
تم مجھ کو آواز نہ دینا
***