میری ساری زندگی کو بے ثمر اُس نے کیا
عُمر میری تھی مگر اس کو بسر اُس نے کیا

میں بہت کمزور تھا اس ملک میں ہجرت کے بعد
پر مجھے اس ملک میں کمزور تر اُس نے کیا

راہبر میرا بنا گمراہ کرنے کے لیے
مجھ کو سیدھے راستے سے دربدر اُس نے کیا

شہر میں وہ معتبر میری گواہی میں ہوا
پھر مجھے اس شہر میں نا معتبر اُس نے کیا

شہر کو برباد کر کے رکھ دیا اُس نے منیرؔ
شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اُس نے کیا

***