گماں کی اک پریشاں منظری ہے
بس اک دیوار ہے اور بے دری ہے

اگرچہ زہر ہے دنیا کی ہر بات
میں پی جاؤں اسی میں بہتری ہے

تُو اے بادِ خزاں اس گُل سے کہیو
کہ شاخ اُمید کی اب تک ہری ہے

گلی میں اس نگارِ ناشنو کی
فغاں کرنا ہماری نوکری ہے

کوئی لہکے خیابانِ صبا میں
یہاں تو آگ سینے میں بھری ہے