سب کو ادراکِ زیاں گِر کے سنبھلنے سے ہُوا
مجھ کو احساس ترے در سے نکلنے سے ہُوا

کوئی زنجیر کا حلقہ نہیں دیتا جھنکار
حال زنداں کا یہ اک میرے نکلنے سے ہُوا

کوئی رازِ دل ِ کہسار نہ کھِلنے پایا!
روز اعلان تو چشموں کے اُبلنے سے ہُوا

یہ مری فکر کہ آنکھوں کی خطا کہتا ہوں
گرچہ زخمی مرا سر پاؤں پھسلنے سے ہُوا

میں کہ معلوم مجھے اپنی حقیقت نہ مقام
تُو کہ مقصود مرا روپ بدلنے سے ہُوا

گُدگُدایا مجھے سورج نے تو پلکیں جھپکیں
شور دریا میں مری برف پگھلنے سے ہُوا

لوگ اُن کو مرے حالات بتا دیتے ہیں
فائدہ خاک مجھے نام بدلنے سے ہُوا

ٹھوکریں لگتی ہیں ہمسایوں کو اس کُوچے سے
یہ اندھیرا تری قندیل نہ جلنے سے ہُوا

اپنا سر پھوڑ، زمانے کی تباہی پہ نہ رو
جو ہُوا خون کی تاثیر بدلنے سے ہُوا

ہے تری ذات سے مشتق مرے لوہے کا مزاج
میں تو کندن ہی تری آگ میں جلنے سے ہُوا

میرے قدموں سے تعارف نہیں کرتی راہیں
یہ خسارہ بھی مرے ساتھ نہ چلنے سے ہُوا


میں تھا ڈُوبا ہُوا دہکی ہُوئی تاریکی میں
میرا آغازِ سفر چاند نکلنے سے ہُوا

آنا جانا بھی غنیمت ہے وہاں اے دانش
میں جو بیمار ہُوا گھر میں ٹہلنے سے ہُوا