رشتے کا انٹر ویو

ہوتی ہے جیسی خواب میں وہ ایسی عورت ہی نہیں
سو تم ٹیچر ہو
بچوں کو پڑھاتے ہو
انہیں تم ڈاکٹر، انجینئر افسر بناتے ہو
مگر اتنا کماتے ہو؟
چلو یہ بعد کی باتیں ہے
موضوع سخن اب ہم بدلتے ہیں
یہاں تو لان میں خنکی ہے
آؤ ہم ڈرائنگ روم کے خاموش سے گوشے میں چلتے ہیں
……………………….
تو ہاں ہم کہہ رہے تھے ….
شکر ہے اللہ کا اچھے کھاتے پیتے ہیں
بڑی راحت سے جیتے ہیں
ہماری تیسری بیٹی کا شوہر شارجے میں ہے
ہزاروں میں لٹاتا ہے
خود اندازہ لگاؤ تم کہ وہ کتنا کماتا ہے
ہماری دوسری بیٹی کا شوہر اک وڈیرا ہے
زمینیں اس کی اتنی ہیں
کہ اگلے سو برس تک ہم
مسلسل پیٹ بھر سکتے ہیں
اس کی تازہ فصلوں سے
مگر افسوس
اپنی پہلی بیٹی پڑھ نہیں پائی
مصیبت پولیو نے بچپنے میں اس پہ نازل کی
بچاری چل نہیں سکتی
مزاجاً تلخ ہے
کڑوی فضا میں پل نہیں سکتی
نہاتی اس لیے کم ہے کہ صابن مل نہیں سکتی
بہت آئے ہیں رشتے مانگنے والے
مگر ہم نے
تمہاری گفتگو سن کر یہ اندازہ لگایا ہے
کہ سچ مچ آج کے دن گو ہر مقصود پایا ہے
تمہارا گھر کہاں ہے ؟
خیر جیسا بھی جہاں بھی ہے
تمہارا گھر مناسب ہے
ہماری بیٹی کے لئے
یہ بر مناسب ہے
مگر…………………..
خاموش کیوں ہو تم
***