تھا، خواب میں ، خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی، نہ زیاں تھا، نہ سود تھا
لیتا ہوں ، مکتبِ غمِ دل میں ، سبق ہنوز
لیکن یہی کہ "رفت" گیا اور "بود" تھا
ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگی
میں ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا