دوست، غمخواری میں میری، سعی فرماویں گے کیا؟َ
زخم کے بھرنے تلک، ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا؟
بے نیازی حد سے گزری، بندہ پرور! کب تلک؟
ہم کہیں گے حالِ دل، اور آپ فرماویں گے "کیا؟"
گر کیا ناصح نے ہم کو قید، اچھا! یوں سہی
یہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جاویں گے کیا؟
خانہ زادِ زلف ہیں ، زنجیر سے بھاگیں گے کیوں ؟
ہیں گرفتارِ جنوں ، زنداں سے گھبراویں گے کیا؟