دل نہیں تجھ کو دکھاؤں ورنہ داغوں کی بہار
اس چراغاں کا کروں کیا، کارفرما جل گیا
عرض کیجے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں ؟
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا، کہ صحرا جل گیا