وعدہ نہ سہی یونہی چلے آؤ کسی دن
گیسو مرے دالان میں لہراؤ کسی دن

سن سن کے حریفوں کے تراشے ہوئے الزام
معیارِ حریفاں پہ نہ آ جاؤ کسی دن

یارو! مجھے منظور ، تغافل بھی جفا بھی
لیکن کوئی اس کو تو منا لاؤ کسی دن

کیوں ہم کو سمجھتا ہے وہ دو قالب و یکجاں
خوش فہم زمانے کو تو سمجھاؤ کسی دن

گتھی طلب و ترک کی کھلتی ہی رہے گی
اس عقدۂ ہستی کو تو سلجھاؤ کسی دن

کچھ سوچ کے آپس کی شکایت کو بڑھاؤ
دنیا میں اکیلے ہی نہ رہ جاؤ کسی دن

بیکار پڑے ہیں نگہِ شوق کے بجرے
اس بحر میں طوفان بھی لاؤ کسی دن

ہیں جبکہ مہ و مہرِضیا خواہ تمہیں سے
لو میرے دئیے کی بھی تو اکساؤ کسی دن

یہ خشک جزیرے کہیں پتھر ہی نہ بن جائیں
آنکھیں جو عطا کی ہیں نظر آؤ کسی دن

یہ زخمِ طلب ، کاوشِ ناخن پہ نہ آ جائے
اس گھاؤ کو مرہم سے بھی سلگاؤ کسی دن

دانش ہی کے اشعار ہیں دانش ہی کے افکار
ایسا نہ ہو دانش ہی کے ہو جاؤ کسی دن