مرے راستے میں پڑاؤ ہے

میرے راستے میں پڑاؤ ہے
کسی رائیگانی کے درد کا
کئی گہری گہری اداسیاں
مجھے ڈھونڈ لائی ہیں شہر سے
تیرے بعد دہر میں زندگی
کئی ہجرتوں کی اسیر ہے
میرے زخم زخم کو ڈھانپ دے
کسی پچھلی یاد کا پیرہن
تجھے کس طرح سے خوشی ملی
مجھے قریہ قریہ میں بانٹ کر
بھی گرد جھاڑ کے ہے اٹھا
سرِ صحنِ دل کوئی گورکن
کبھی دردِ شہرِ فراق میں
تیرا نام لکھتا ہے جا بجا
ابھی خواب عمر کٹا نہیں
کوئی راستہ بھی اٹا نہیں