اک بار ہی چاہت کی سزا کیوں نہیں دیتے
زندہ ہوں تو مرنے کی دعا کیوں نہیں دیتے

اک آگ جو بجھتی نہ بھڑکتی ہے زیادہ
اس آگ کو دامن کی ہوا کیوں نہیں دیتے

بچھڑے ہوئے لمحے بھی کبھی لوٹ کے آئے
بچھڑے ہوئے لمحوں کو بھلا کیوں نہیں دیتے

دریا میں پکارے چلے جاتے ہو ہمیشہ
صحراؤں میں ساون کو صدا کیوں نہیں دیتے

دیکھو نہ کئی یار بہت خوفزدہ ہیں
پل بھر کو چراغوں کو بجھا کیوں نہیں دیتے
***