نری خوش فہمیاں ہوتی ہیں، یکسر کب بدلتا ہے
نئی عینک پہن لینے سے منظر کب بدلتا ہے
سمندر اچھا لگتا ہے مگر اس اونچے جنگلے سے !
مجھے معلوم ہے یہ دیو تیور کب بدلتا ہے
مجھے بھی وقت کچھ درکار ہے خود کو بدلنے میں
مزاجاً وہ بھی پتھر ہے سو ، پتھر کب بدلتا ہے
تری چشم کرم کے مستحق ہم کب ٹھہرتے ہیں
چلو دیکھیں تری سوچوں کا محور کب بدلتا ہے
کسی کو سال نو کی کیا مبارک باد دی جائے
کیلنڈر کے بدلنے مقدر کب بدلتا ہے
ہمیشہ اک یہی تصویر وہ جاتی ہے آنکھوں میں
یہ پہلا ہجر ہے اور ایسا منظر کب بدلتا ہے
***