ستایش گر ہے ، زاہد اس قدر جس باغِ رضواں کا
وہ اک گلدستہ ہے ہم بیخودوں کے طاقِ نسیاں کا
نہ آئی سطوتِ قاتل بھی مانع، میرے نالوں کو
لیا دانتوں میں جو تنکا، ہوا ریشہ نَیَستاں کا
نہیں معلوم، کس کس کا لہو پانی ہوا ہو گا
قیامت ہے ، سرشک آلود ہونا تیری مژگاں کا
بغل میں غیر کی، آج آپ سوتے ہیں کہیں ، ورنہ
سبب کیا، خواب میں آ کر، تبسم ہائے پنہاں کا؟
نظر میں ہے ہماری، جادۂ راہِ فنا، غالبؔ!
کہ یہ شیرازہ ہے عالَم کے اجزائے پریشاں کا