احتیاط

سوتے میں بھی
چہرے کو آنچل سے چھُپائے رہتی ہوں
ڈر لگتا ہے
پلکوں کی ہلکی سی لرزش
ہونٹوں کی موہوم سی جنبش
گالوں پر وہ رہ رہ کے اُترنے والی دھنک
لہو میں چاند رچاتی اِس ننھی سی خوشی کا نام نہ لے لے
نیند میں آئی ہُوئی مُسکان
کِسی سے دل کی بات نہ کہہ دے