برہنِ شرم ہے با وصفِ شوخی اہتمام اس کا
نگیں میں جوں شرارِ سنگ نا پیدا ہے نام اُس کا
مسی آلودہ ہے مہرِ نوازش نامہ، ظاہر ہے
کہ داغِ آرزوئے بوسہ دیتا ہے پیام اُس کا
بہ امیدِ نگاہِ خاص، ہوں محمل کشِ حسرت
مبادا ہو عناں گیرِ تغافل، لطفِ عام اُس کا