بے کلی

سمے کی بے کلی بڑھنے لگی ہے
لہو میں درد پیچ و تاب کھاتا ہے
کواڑوں پر اگی خاموشیوں کے لب کھلے ہیں
اور درختوں پر جمی شاموں میں کوئی مضطرب کروٹ بدلتا ہے
بڑی مدت سے بچھڑی آرزو
پردیس سے واپس سیہ ملبوس اوڑھے لوٹ آئی ہے
پرانے راستے پھر سے ہمارا دل مسلتے ہیں
نگاہیں آس سے اکثر گلے لگ لگ کے روتی ہیں
اور اب تو خواب بھی ہم سے گریزاں ہیں
سمے کی بے کلی بڑھنے لگی ہے
دل پریشاں ہے