ہیں دھوپ کے نیزے بھی جعلی اشجار بھی یونہی لگتے ہیں
احباب بھی ہیں ناکارہ سے ،اغیار بھی یونہی لگتے ہیں
اس عہد کے گدلے پانی میں تصویر کوئی شفاف نہیں
محکوم بھی یونہی لگتے ہیں مختار بھی یونہی لگتے ہیں
ادوار بدلتے ہیں ،تاریخ کی تبدیلی کے لئے
حکام وہی خدام وہی دربار بھی یونہی لگتے ہیں
موسم کے بدلنے پر اب تک بدلے تو نہیں مظلوم ترے
مایوس بھی یونہی لگتے ہیں، بیزار بھی یونہی لگتے ہیں
بیکار نہیں جاتی آہیں،کچھ ہو کے رہے گا دیکھنا تم
اُمید تو ہے انشاء اللہ، آثار بھی یونہی لگتے ہیں
جب غالب و میر کو پڑھتے ہیں ہم راتوں کی تنہائی میں
تب اپنے قلم سے نکلے ہوئے اشعار بھی یونہی لگتے ہیں
***