شام تک میری بے کلی ہے شراب
شام کو میری سر خوشی ہے شراب

جہل واعظ کا اُس کو راس آئے
صاحبو! میری آگہی ہے شراب

رَنگ رَس ہے میری رگوں میں رواں
بخدا میری زندگی ہے شراب

ناز ہے اپنی دلبری پہ مجھے
میرا دل ، میری دلبری ہے شراب

ہے غنیمت جو ہوش میں نہیں میں
شیخ! میری بے حسی ہے شراب

حِس جو ہوتی تو جانے کیا کرتا
مفتیو! میری بےحسی ہے شراب