سنگ مرمر کی طرح سرد نہیں لگتے ہیں
آپ تو آتشیں محلوں کے مکیں لگتے ہیں
یہ دیکھتے ہوئے شفاف سے مومی چہرے
شمعیں بجھتی ہیں تو کچھ اور حسیں لگتے ہیں
اس کی پازیب میں شائد ہیں دلوں کے گھنگھرو
زلزلے آج تو بالائے زمیں لگتے ہیں
غور سے جب انہیں دیکھو تو پریشاں ہو کر
بے سبب دیکھنے وہ اور کہیں لگتے ہیں
روتے ہوں گے کبھی خلوت میں ترے سوختہ دل
محفلوں میں تو بہت خندہ جبیں لگتے ہیں
کل مرے شانے پہ سررکھ کے کہا تھا اس نے
جیسے بدنام تھے ایسے تو نہیں لگتے ہیں
***