بتھوے کا ساگ
23081 41237804 - بتھوے کا ساگ
اسما حسن
بتھوا مشہور ساگ ہے۔ پنجاب میں سرسوں کا ساگ بتھوے کے بغیر نہیں پکایا جاتا۔ بتھوے کے خواص بہت ہیں۔ اس کے کھانے سے ہاضمہ درست رہتا ہے، بھوک لگتی ہے، طاقت آتی ہے اور ہر طرح کی بواسیر اور پیٹ کے کیڑوں کے امراض میں مفید ہے۔ اس کی تاثیر سرد ہے۔ گرم مزاج لوگوں کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ یہ قبض توڑتا ہے۔ سینے اور حلق کو نرم اور گرمی کو دور کرتا ہے۔ اس کے کھانے سے پیاس بجھ جاتی ہے۔ پیشاب کھل کر آتا ہے۔ اس میں تھوڑا سا گرم مسالہ ڈال دیں تو اس کی مضرت دور ہو جاتی ہے۔ چقندر گوشت کے ساتھ بتھوا پکائیں تو کوئی نقصان نہیں دیتا۔ جن لوگوں کا مزاج بلغمی ہو انہیں فائدہ بخشتا ہے۔ بھوک نہ لگتی ہو تو مونگ کی دال میں بتھوا ڈال کر پکائیے اور مریض کو کھلائیے۔ اسے بھوک لگے گی اور توانائی بحال ہو گی۔ جسم کے کسی مقام پر خون جمع ہو کر ورم ہو جائے تو بتھوے کا ساگ پیس کر لگائیے، سوجن کم ہو جائے گی۔ پرانی کھانسی کے مریض کو اس کا ساگ پکا کر کھانا چاہیے۔ اس سے سینے میں جمی بلغم نکلے گی اور آرام آئے گا۔ جو مریض بہت کمزور ہوں وہ تھوڑے سے روغن زیتون میں بتھوے کا ساگ پکا کر کھائیں۔ تیز قسم کے بخاروں میں بتھوے کا ساگ پالک کے ساتھ پکا کر کھلائیے۔ گھیا اور ہرے دھنیے کے ساتھ بتھوا پکا کر کھانے سے بخار کی تیزی ٹوٹ جاتی ہے۔ قبض کی صورت میں اس کے پتے پانی میں پکا کر پانی چھان کر پیا جاتا ہے۔ بتھوے کے پتوں کے پکوڑے بیسن میں بنا کر مزے سے کھا سکتے ہیں۔ بتھوا پالک کے ساتھ پکائیے۔ یہ سرسوں کے ساگ اور ہری مرچ کے ساتھ گھوٹ کر بھی پکایا جاتا ہے۔ اس کے پتوں کی بھجیا بنتی ہے۔ ملی جلی سبزیوں میں آپ تھوڑا سا بتھوا ڈال سکتے ہیں۔