انگلستان میں اقبالؒ کی مصروفیت
23088 50664453 - انگلستان میں اقبالؒ کی مصروفیت
حمزہ فاروقی
علامہ اقبالؒ 27 ستمبر 1931ء کو گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن پہنچے۔ اس وقت تک گول میز کانفرنس کے بیشتر ہندوستانی مندوبین لندن میں جمع ہو چکے تھے۔ یکم اکتوبر 1931ء کو غلام رسول مہر لندن تشریف لائے۔ آپ دو روز روم میں ٹھہرے ایک رات میلان میںاور تین دن پیرس میں مقیم رہے۔ لندن میں علامہ اقبالؒ کا قیام سینٹ جیمز کورٹ میں تھا۔ ان کے قریب ہی مولانا شفیع داؤدی‘ نواب احمد سعید چھتاری اور مولانا شوکت علی رہتے تھے۔ مولانا شوکت علی نے مولانا غلام رسول مہر کو اپنے ہی پاس ٹھہرا لیا تھا۔ آغا خان کا قیام رٹز ہوٹل میں تھا اور مسلم مندوبین مشورے کے لیے اکثر آغا خان کے کمرے میں اکٹھے ہوتے تھے ۔ سینٹ جیمز کورٹ کے نزدیک ہی سینٹ جیمز پیلس واقع تھا جہاں گول میز کانفرنس منعقد ہو رہی تھی۔ اقبالؒ لندن پہنچتے ہی مرجع علم و ادب بن گئے۔ متعدد سیاسی اور علمی شخصیتیں آپؒ سے ملنے کے لیے آتی تھیں۔ 30 ستمبر 1931ء کو اقبالؒ نے وزیر ہند سر سیموئیل ہور سے ملاقات کی۔ اقبالؒ نے سیاسیات عالم کے اہم پہلوؤں کو پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کے مطالبات نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیے۔ وزیر ہند اس ملاقات سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ دوبارہ ملاقات کی آرزو کی۔ یکم اکتوبر کو سر سیموئیل ہور اقبالؒ سے ملاقات کے لیے تشریف لائے حضرت علامہ نے فرمایا روس اور برطانیہ کی کشمکش دراصل قیادت کا جھگڑا ہے۔ روس اپنے اثرات وسط ایشیا اور اسلامی دنیا میں پھیلانا چاہتا ہے۔ اور برطانیہ کی سیاسی غلطیوں کی وجہ سے وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ برطانیہ اپنی سابقہ پالیسی کی بنا پر دنیائے اسلام کا اعتماد کھو چکا ہے۔ کابل میں لوگ باہم لڑتے ہیں اور گالیاں آپ کو دیتے ہیں ۔ ایران میں ایک امریکی مسافر اس لیے مارا گیا کہ لوگ اسے انگریز سمجھتے تھے ہندوستان میں بھی لو گ برطانیہ سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ اب حالت یہ ہے کہ بنارس میں ایک مسلمان تاجر اس لیے مارا گیا کہ وہ برطانوی کپڑا بیچتا تھا…اس زمانے میں برطانیہ میں عام انتخابات ہونے والے تھے۔ برطانوی نمائندوں کی توجہ گول میز کانفرنس کی بجائے انتخابات پر تھی۔ اس لیے کانفرنس کا کام دو تین ہفتوں کے لیے کھٹائی میں پڑ گیا تھا۔ یکم اکتوبر کو اقبالؒ کے نام اطالوی قونصل مقیم لندن کا خط آیا تھا جس میں لکھا تھا کہ اگر اقبالؒ اٹلی جانا چاہتے ہیں تو اطلاع دیں اطالوی حکومت ان کے لیے ہر قسم کی سہولت بہم پہنچا کر خوش ہو گی۔ 14کتوبر 1931ء کو مولانا فرزند علی امام مسجد لندن نے بعض اصحاب کو لنچ پر مدعو کیا۔ ان حضرات کے نام یہ تھے۔ اقبالؒ‘ مہر‘ مولانا شوکت علی‘ چوہدری سر ظفر اللہ خاں‘ حافظ ہدایت حسین‘ فضل الحق‘ عبدالمتین چوہدری وغیرہ۔ پرتکلف لنچ کے بعد مولانا فرزند علی نے قرب و جوار کے انگریز نو مسلموں کی جماعت سے ملوایا۔ چند عورتوں اور بچوں اور نوجوانوں نے قرآنی سورتیں تلاوت کیں۔ ان کا تلفظ زیادہ اچھا نہ تھا لیکن اس بات پر سب نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اللہ کا آخری پیغام انگریز قوم کی زبان پر جاری ہو رہا تھا۔ ایک انگریز نوجوان عبدالرحمن ہارڈی سے حاضرین محفل بہت متاثر ہوئے۔ ایک چھ سال کی انگریز بچی نے سورۂ فاتحہ سنائی تو اقبالؒ نے ایک پونڈ کا سکہ انعام میں دیا۔ اقبالؒ نے محفل قرأت کے بعد ایک مختصر اور پُرتاثیر تقریر کی۔ آپؒ نے نومسلموں سے فرمایا: ’’آپ حضرات اپنی قلت تعداد سے دل شکستہ نہ ہوں۔ دنیائے اسلام چالیس کروڑ فرزندان توحید آپ کے بھائی آپ کے ہم قوم اور آپ کے ساتھی ہیں۔ یورپ کی تین زبانیں انگریزی، فرانسیسی اور جرمن اوج ترقی پر ہیں لیکن میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ عربی زبان (جو قرآن پاک کی زبان ہے) کا مستقبل بھی بے حد درخشاں اور روشن ہے۔ اور آپ کو اس پر بھی توجہ کرنی چاہیے اور اس سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے‘‘۔ آخر میں اقبالؒ نے امام صاحب کا شکریہ ادا کیا جن کی عنایت اور توجہ سے یہ موقع ہاتھ آیا تھا اور آپؒ مع اپنے رفقا مسجد سے رخصت ہو گئے۔ یہ مسجد لندن سے کچھ فاصلے پر واقع تھی اور اس کے ساتھ ہی بہت وسیع قطعہ تھا۔ اندازاً ڈیڑھ ایکٹر زمین تھی اس کی ایک سمت میں سہ منزلہ مکان تھا جس میں امام کی رہائش گاہ، دفتر، ملنے اور کھانے کا کمرہ تھا۔ دوسرے حصے میں چھوٹی سی خوش وضع مسجد تھی۔ بقیہ زمین پر باغ تھا۔ جس میں پھولوں کی کیاریوں میں دو خوبصورت لان اور کناروں پر پھلوں کے درخت تھے۔ قیام لندن کے دوران اقبالؒ کی ملاقات سید ضیا الدین طباطبائی سے ہوئی۔ آپ ایران کے وزیر اعظم رہ چکے تھے اور اس اصلاحی اقدام کے رہنما تھے جس کے ذریعے رضا خان ایک معمولی افسر سے وزیر جنگ بنے تھے۔ اگر آپ چاہتے تو قاچاری بادشاہت کا تختہ الٹ کر خود تمام اختیارات سنبھال سکتے تھے۔ لیکن آپ کی نیک نفسی نے گوارا نہ کیا کہ بعد ازاں احمد شاہ قاچار سے اختلافات ہو گئے اور آپ وزارت چھوڑ کر ایران سے سوئٹزر لینڈ تشریف لائے۔ آپ کی جلاوطنی کے بعد رضاخان نے بادشاہت حاصل کی۔ آپ نو زبانیںجانتے تھے اور ان دنوں چند روز کے لیے لندن آئے ہوئے تھے۔ ٭…٭…٭