ابوالبرکات بغدادی
23087 76529367 - ابوالبرکات بغدادی
حمید عسکری
ملک شاہ سلجوقی کے بیٹے محمد بن ملک شاہ کے عہد میں ایک نام ور طبیب نے بغداد میں شہرت پائی اور اپنے وقت کے سلاطین اور امرا کا قرب حاصل کیا۔ ان کا نام ابوالبرکات ہبت اللہ بغدادی ہے۔ وہ عراق کے ایک قصبے میں ، جو بلد کہلاتا تھا، گیارہویں صدی کے اواخر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی تمام زندگی بغداد میں گزاری، اس لیے وہ بغدادی کے لقب سے مشہور ہے۔ وہ پہلے یہودی مذہب کے پیروکار تھے اور طب کا شوق رکھتے تھے۔ ان کے زمانے میں طبی علوم کے ایک ماہر ابوالحسن سعید بغداد میں طلبہ کی ایک جماعت کو طب کی تعلیم دیتے تھے، مگر وہ کسی یہودی کو اپنی جماعت میں داخل نہیں کرتے تھے۔ ابو البرکات محض شوقِ مطالعہ دل میں لے کر ان کے مکتب میں دربان کے طور پر ملازم ہوئے۔ جب طلبہ کی جماعت لگتی تو ابوالبرکات صفِ نعال میں بیٹھ جاتے اور استاد کے لیکچر کو بڑے غور اور انہماک سے سن کر ذہن نشین کرتے جاتے، مگر ظاہری طور پر وہ دربان ہی بنے رہتے۔ اس طور سے قریباً ایک سال گزر گیا۔ ایک روز ابوالحسن سعید اپنے طلبہ کا امتحان لینے کی غرض سے ان سے سوالات پوچھ رہے تھے۔ ایک سوال ایسا تھا جس کا جواب ان میں سے کسی سے نہ بن پڑا۔ اس وقت دربان ابو البرکات نے درخواست کی کہ اگر اجازت ہو تو میں بھی اس بارے میں کچھ عرض کروں۔ طلبہ حیرت سے ان کا منہ تکنے لگے۔ ابوالحسن نے طنزآمیز مسکراہٹ کے ساتھ ان کو اجازت دے دی۔ لیکن انہوں نے زیربحث مسئلے پر اس تفصیل سے تقریر کی اور اس کے تمام پہلو اتنی خوبی سے بے نقاب کیے کہ وہ سب حیران رہ گئے۔ ابوالبرکات نے استاد کو اپنے بارے میں سب کچھ بتا دیا اور استاد نے انہیں فوراً اپنے حلقہ درس میں شامل کر لیا، جہاں ان کا شمار چوٹی کے تلامذہ میں ہونے لگا۔ ابوالحسن سعید نے 1102ء کے لگ بھگ وفات پائی۔ اس وقت ابوالبرکات جوان تھے اور وہ طبی تعلیم کی تکمیل کر کے بغداد میں مطب کرنے لگے تھے۔ ساتھ ساتھ وہ فلسفہ اور سائنس کا مطالعہ بھی کرتے تھے، جس میں انہوں نے کافی مہارت بہم پہنچا لی تھی۔ ابوالبرکات نے ایک طبیب کی حیثیت سے بہت شہرت حاصل کر لی تھی اور ان کا نام دور دور تک پہنچ گیا تھا۔ چنانچہ ایک بار جب سلجوقی بادشاہ محمد بن ملک شاہ نیشاپور میں سخت بیمار پڑے تو ابوالبرکات کو بغداد سے بلایا گیا۔ جب ان کے علاج سے اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کو شفا بخشی تو ابوالبرکات کو معاوضے اور انعام کی صورت میں اتنی کثیر دولت دی گئی کہ وہ بغداد میں واپس آ کر عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے لگے۔ محمد بن ملک شاہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے اور جانشین سلطان محمود اور سلطان مسعود بھی ان کی خدمات سے فائدہ اٹھاتے رہے اور اپنی داد و دہش سے انہیں مالا مال کرتے رہے۔ آخری عمر میں اللہ تعالیٰ نے انہیں مسلمان ہونے کی توفیق دی۔ ایک مرتبہ سلطان مسعود کو شکار کے دوران میں ایک شیر نے زخمی کر دیا۔ بعد میں ان کو قولنج کا درد اٹھا اور حالت تشویش ناک ہو گئی۔ اس وقت ابوالبرکات کو علاج کے لیے بغداد طلب کیا گیا۔ ابوالبرکات کی عمر اب 70 سال سے متجاوز ہو چکی تھی اور ان کی اپنی صحت گر چکی تھی۔ وہ سلطان کا علاج کرنے آئے مگر خود سخت بیمار پڑ گئے۔ چنانچہ روایات کے مطابق ایک ہی دن معالج (ابوالبرکات) اور مریض (مسعود بن محمد بن ملک شاہ) نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ علمی دنیا میں ابوالبرکات بغدادی کا کارنامہ ان کی مشہور تصنیف المتعبر ہے جو فلسفہ اور سائنس کی ایک تحقیقی کتاب ہے۔ اس میں مصنف نے ارسطو اور دیگر قدیم دانش وروں کی غلط آرا پر تنقیدکی ہے۔ ان کے مقابلے میں صحیح آرا پیش کی ہیں۔ مثلاً چشموں اور کنوؤں میں جو پانی نکلتا ہے اس کے متعلق قدما کی یہ رائے تھی کہ زمین کے اندر بخارات جب ٹھنڈک سے مائع بن جاتے ہیں تو وہ کنویں اور چشموں کے پانی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، لیکن ابوالبرکات بغدادی نے اپنی کتاب میں تصریح کی ہے کہ کنوؤں اور چشموں کا پانی حقیقت میں بارش کا پانی ہے جو زمین میں جذب ہو جاتا ہے اور مناسب حالات میں پھر کنوؤں اور چشموں میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ ٭…٭…٭