پرزم

پانی کے اِک قطرے میں
جب سُورج اُترے
رنگوں کی تصویر بنے
دھنک کی ساتوں قوسیں
اپنی بانہیں یُوں پھیلائیں
قطرے کے ننھے سے بدن میں
رنگوں کی دُنیا کھِنچ آئے!
میرا بھی اِک سورج ہے
جو میرا تَن چھُو کر مُجھ میں
قوسِ قزح کے پھُول اُگائے
ذرا بھی اُس نے زاویہ بدلا
اور مَیں ہو گئی
پانی کا اِک سادہ قطرہ
بے منظر،بے رنگ