عقائد وہم ہیں، مذہب خیال خام ہے ساقی
ازل سے ذہنِ انساں بستۂ اوہام ہے ساقی

حقیقت آشنائی اصل میں گم کردہ راہی ہے
عروسِ آگہی پروردۂ ابہام ہے ساقی

مبارک ہو ضعیفی کو خرد کا فلسفہ رانی؟
جوانی بے نیاز عبرتِ انجام ہے ساقی

ہوس ہو گی اسیرِ حلقۂ نیک و بد عالم
محبت ماورائے فکرِ ننگ و نام ہے ساقی

ابھی تک راستے کے پیچ و خم سے دل دھڑکتا ہے
مرا ذوق طلب شاید ابھی تک خام ہے ساقی

وہاں بھیجا گیا ہوں چاک کرنے پردۂ شب کو
جہاں ہر صبح کے دامن پہ عکس شام ہے ساقی

مرے ساغر میں مے ہے اور ترے ہاتھوں میں بربط ہے
وطن کی سر زمیں میں بھوک سے کہرام ہے ساقی

زمانہ برسرِ پیکار ہے پر ہول شعلوں سے
ترے لب پر ابھی تک نغمۂ خیام ہے ساقی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔