اپنی وابستگیِ نو سے بھی کٹ کر آتے
ہم کو کیا ایسی پڑی تھی کہ پلٹ کر آتے

چھوٹی سے چھوٹی پریشانی بھی یاد آئے گی
ہم کو معلوم نہ تھا ورنہ نمٹ کر آتے

ہم کو یہ کھیل ادھورے نہیں اچھے لگتے
ہم اگر آتے تو پھر بازی الٹ کر آتے

روح کے ساتھ نہ دینے سے یہ خواہش ہی رہی
ہم تیرے مدمقابل کبھی ڈٹ کر آتے

تجھ سے دو طرفہ عداوت تھی بہت بچپن سے
کیسے ممکن تھا تیرے سامنے گھٹ کر آتے

جیسے قیدی کوئی اپنوں سے بچھڑتا ہے کبھی
میرے آنسو میری پلکوں سے لپٹ کر آتے
***